احکامات حج-(فضائل ومسائل)-۲۸

حج کے اقسام
حج کی کُل تین قسمیں ہیں۔
(۱)افراد (۲) قران (۳) تمتع
حج افراد:
حج افراد کا مطلب یہ ہے کہ میقات سے صرف حج کا احرام باندھ لیا جائے اور مکۃ المکرمہ حاضر ہوکر طواف قدوم کرکے احرام کی حالت میں قیام کیاجائے۔ اور یوم النحر کے دن جمرۂ عقبہ کی رمی کے بعد احرام کھول دیاجائے ۔اور ایسے حاجی پر کوئی قربانی لازم نہیں ہے۔ صرف ایک طواف اور ایک سعی واجب ہے۔ (ایضاح الطحاوی ۳/۳۶۱)
آج کل کے زمانہ میں میقات سے حجِ افراد کا احرام باندھ کر جانے میں احرام کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے کیونکہ جو لوگ حج سے پندرہ بیس روز قبل مکہ مکرمہ پہنچ جائیں گے ان کے لئے احرام کی حالت میں اتنا لمبا زمانہ گزارنا، اس درمیان ممنوعاتِ احرام سے اپنے آپ کو محفوظ رکھنا بہت دشوار ہے۔ اور ممنوعات احرام کو اگربھول کر بھی اختیار کیاجائیگا تب بھی کفارہ لازم ہوجاتا ہے۔ مثلاً مونچھ بہت لمبی ہوجائے اور بے خیالی میں کاٹ لی ۔ ساتھیوں کے ساتھ بے خیالی میں خوشبو لگالی وغیرہ وغیرہ۔ اس طرح معمولی معمولی امور سے اتنے لمبے عرصہ تک بچنا مشکل ہے۔ ہاں البتہ جو حجاج کرام پہلے مدینہ مورہ جاتے ہیں اور وہاں آٹھ روز گزارنے کے بعد جب مکہ مکرمہ کیلئے روانہ ہوں اور حج کازمانہ بہت قریب ہو توان کے لئے کوئی مشکل نہیں۔ بہرحال آج کل کے زمانہ میں حجِ تمتع ہی زیادہ آسان ہے۔ اور تقریباً ننانوے (۹۹) فیصد حجاج کرام حج تمتع ہی کرتے ہیں۔
حج قِران
حج قران کامطلب یہ ہے کہ میقات سے حج اور عمرہ دونوں کے لئے ایک ساتھ احرام باندھ لیاجائے، اور مکۃ المکرمہ پہنچ کر ارکانِ عمرہ ادا کرنے کے بعد احرام نہ کھولاجائے۔ یا میقات سے صرف عمرہ کا احرام باندھ لیاجائے اور مکۃ المکرمہ پہنچنے سے قبل راستہ میں یا مکۃ المکرمہ پہنچنے کے بعد طوافِ عمرہ سے قبل کا احرام باندھ لیاجائے، اور پھر ارکانِ عمرہ ادا کرنے کے بعد احرام نہ کھولا جائے۔ اور نہ ہی حلق راس کیاجائے بلکہ اسی احرام کی حالت میں مکۃ المکرمہ میں قیام کیاجائے، اور ارکانِ عمرہ سے فارغ ہونے کے بعد ایک طواف مزید کرنا مسنون ہے، جس کو طوافِ قدوم کہا جاتا ہے۔ اس کے بعد عرفات ،مزدلفہ کے معمولات سے فارغ ہوکر یوم النحر جمرۂ عقبہ کی رمی کے بعد ایک قربانی کرنابھی واجب ہے۔ اسکو دم شکر بھی کہاجاتاہے۔ اور قربانی سے فارغ ہوکر حلق یا قصر کرکے احرام کھول دیاجائے۔ (غنیہ جدید /۲۰۲)
مسائل حج تمتع
فَمَنْ تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ ۚ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ وَسَبْعَةٍ إِذَا رَجَعْتُمْ ۗ تِلْكَ عَشَرَةٌ كَامِلَةٌ ۗ ذَٰلِكَ لِمَنْ لَمْ يَكُنْ أَهْلُهُ حَاضِرِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ الایۃ (سورۂ بقرہ ۱۹۶)
تو جوکوئی عمرہ کو حج کے ساتھ ملاکر تمتع کا فائدہ اٹھائے تواس پر قربانی میں سے جو کچھ میسر ہولازم ہے۔ پھر جس کو قربانی میسر نہ ہو توحج کے زمانہ میں تین روزے اور سات روزے جب تم وطن لوٹ آؤ رکھنا لازم ہے۔ یہ کل دس روزے رکھنا لازم ہے۔ تمتع کا یہ حکم ان لوگوں کے لئے ہے جن کے گھر والے مسجد احرام کے پاس نہ رہتے ہوں۔
حج تمتع کا طریقہ
یَارَبِّ صَلِّ وَسَلِّمْ دَآئِمًا اِبَدًا عَلٰی حَبِیْبِکَ خَیْرِ الْخَلْقِ کُلِّھِم
حج تمتع کامطلب یہ ہے کہ میقات سے صرف عمرہ کااحرام باندھ لیاجائے اور مکۃ المکرمہ پہنچ کر ارکانِ عمرہ ادا کرکے احرام کھول دیاجائے ۔ اس کے بعد مکۃ المکرمہ کے باشندوں کی طرح بغیر احرام کے قیام کیاجائے۔ پھر یوم الرّویہ یعنی آٹھویں ذی الحجہ کی صبح کو حدودِ حرم میں جہاں اپناقیام ہے وہاں سے حج کا احرام باندھ کر منیٰ کو روانہ ہوجائے۔ پھریوم النحر کو جمرۂ عقبہ کی رمی کرنے کےبعد تمتع کی قربانی کی جائے۔ اس کے بعد حق کرکے احرام کھول دیاجائے۔ اور تمتع کرنے والے پر جوقربانی واجب ہوتی ہے اس کو دمِ شکر کہاجاتاہے۔ اور اس پر عمرہ کے لئے ایک سعی اور ایک طواف اورحج کے لئے بھی ایک سعی اور ایک طواف لازم ہوجاتے ہیں۔(ایضاح الطحاوی ۳/۳۶۱) ۔۔۔۔ (ماخوذ از کتاب انوارمناسک)
۔۔۔۔۔۔(ختم شد)۔۔۔۔۔۔



