مضامین

احکامات حج- (فضائل ومسائل)-۳

افضل ترین حج کونسا حج ہوتاہے
عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ سُئِلَ: أَيُّ الْحَجِّ أَفْضَلُ؟ قَالَ: الْعَجُّ وَالثَّجُّ۔الحدیث (ترمذی۱/۱۷۰)
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بیشک رسول اکرم ﷺ سے سوال کیاگیا کہ حج کی مختلف قسموں میں سے کونسا حج زیادہ افضل اور فضیلت والا ہے؟ تو آپؐ نے جواب میں ارشاد فرمایا کہ وہ حج زیادہ فضیلت والاہے جس میں بلند آواز کے ساتھ کثرت سے تلبیہ ہو۔ اورجس حج میں قربانی کا خون خوب بہتا ہو۔
الْعَجُّ کے معنی بلند آواز سے کثرت سے تلبیہ پڑھنے کے ہیں۔ الثَّجُّ کے معنی قربانی میں جانور کاخون بہانے کے ہیں۔ اور وہ بدنہ کی قربانی کے لئے زیادہ استعمال ہوتاہے۔ (ترمذی۱؍۱۷۱)
فائدہ: اس حدیث شریف سے معلوم ہوا کہ حج قران اور ھج تمتع میں قربانی ہوتی ہے۔ اور حج اِفراد میں قربانی نہیں ہوتی۔ اسلئے افراد کے مقابلہ میں قران اور تمتع زیادہ افضل ہوں گے۔
حج وعمرہ سے انسان گناہوں سے کس طرح پاک ہوتاہے
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ:تَابِعُوا بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ، فَإِنَّهُمَا يَنْفِيَانِ الْفَقْرَ وَالذُّنُوبَ كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ وَالذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ، وَلَيْسَ لِلْحَجَّةِ الْمَبْرُورَةِ ثَوَابٌ إِلَّا الْجَنَّةُ۔الحدیث (ترمذی ۱؍۱۶۷، نسائی ۲؍۲)
حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ رورایت فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ حج اور عمرہ پے درپے کرتے رہو، یعنی جب حج کرو تو ساتھ میں عمرہ بھی کرلیا کرو۔(حج قران و حج تمتع کیا کرو) اسلئے کہ حج وعمرہ دونوں گناہوں اور محتاجگی وفقیری کو اس طرح دور کردیتے ہیں جس طرح بھٹی لوہے اور سونے اور چاندی کے میل کو دور کرکے صاف کردیتی ہے۔ اور حج مبرور (حج مقبول جو معصیت سے پاک ہوتاہے) کاثواب اور بدلہ جنت کااعلیٰ مقام ہی ہے۔
حج مقبول سب سے افضل ترین عمل ہے
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سُئِلَ النَّبِيُّ ﷺ: أَيُّ الأَعْمَالِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: إِيمَانٌ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ. قِيلَ: ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ: جِهَادٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ. قِيلَ: ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ: حَجٌّ مَبْرُورٌ۔ الحدیث (بخاری شریف ۱؍۲۰۶ حدیث ۱۴۹۷)
حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ سے پوچھا گیا کہ کونسل عمل سب سے بہتر اور افضل ہے ؟۔ توآپؐ نے فرمایا کہ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانا سب سے افضل ترین عمل ہے۔ آپؐ سے پوچھاگیا کہ پھر اسکے بعد کونساعمل افضل ہے؟ آپؐ نےجواب دیا کہ اللہ راستہ میںجہاد کے لئے نکلنا سب سے افضل اور بہترین عمل ہے۔ آپؐ سے پوچھا گیا کہ پھر اسکے بعد کونسا عمل افضل ترین ہے؟ آپؐ نے فرمایا کہ ایسا حج سب سے افضل ترین عمل ہے جو ہر بُرائی سے پاک اور مقبول ہو۔ [ از کتاب: انوار مناسک]
۔۔۔۔۔جاری ہے ان شاء اللہ تعالیٰ۔۔۔۔۔۔۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button