ماں باپ اور اولادکےحقوق واحکام-۷

ماں باپ کا حق زیادہ ہے یا استاذ کا
سوال: (۱۰۰۴) خدمت میں ماں باپ کا حق زیادہ ہے یا استاد کا ؟(۱۶۹۲/۳۲-۱۳۳۳ھ)
الجواب: ماں باپ کا حق زیادہ ہے۔
سوال:(۱۰۰۵)شریعت میں والدین کاحق زیادہ ہے یا استاذ کا؟(۱۰۹/۴۶-۱۳۴۷ھ)
الجواب: شامی جلد خامس میں ہے: وقال الزَّندويِسِيُّ: حقُّ العالِمِ على الجاهِلِ، وحقُّ الأستاذِ على التلميذِ واحدٌ على السواءِ الخ وحقُّ الزوجِ على الزوجةِ أكثرُ من هذا الخ(۲)
اس کا حاصل یہ ہے کہ عالم کاحق جاہل پر اور استاذ کاحق شاگرد پر برابر ہے، اور شوہر کا حق زوجہ پر اس سےزیادہ ہے، اورظاہر ہے کہ والدین کاحق اس سے زیادہ ہے، پس معلوم ہوا کہ والدین کاحق اس حیثیت سے زیادہ ہے اگرچہ بعض حیثیت سے استاذ کاحق زیادہ ہو۔ فقط
ماں باپ کی خدمت مقام ہے یا استاذ وپیر کی؟
سوال:(۱۰۰۶) خدمت میں والدین کا رتبہ زیادہ ہے یا استاذ اور پیر کا؟(۲۱۷۵/۳۲-۱۳۳۳ھ)
الجواب: خدمتِ والدین کو خدمتِ پیر واستاذ پرترجیح ہے، مگر احترام ان کا بھی لازم ہے۔
وهو أن لا يفتحَ الكلامَ قبله، ولا يجلسَ مكانَه وإن غاب، ولا يردَّ عليه كلامَه، ولا يتقدَّمَ عليه في مشيه، إلخ.(۱) (شامی )فقط
کیا پیر کے حقوق والدین سے زیادہ ہیں؟
سوال:(۱۰۰۷) کیا پیر کے حقوق والدین سے زیادہ ہیں؟ اگر والدین اولاد کو ایسا حکم دیں جو منافیٔ شرع نہ ہوتو کیا اولاد پر واجب ہے کہ وہ حکم والدین کوپیر کے کہنے سے مسترد کرے؟ (۱۳۰۴/۱۳۴۰ھ)
الجواب: والدین کے حقوق زیادہ ہیں، پس والدین کاجوحکم خلاف شریعت نہ ہو اس کو پیر کے کہنے سے مسترد نہ کرنا چاہیے۔ فقط
بھائی بہن سے ماں باپ کا درجہ بلند ہے
سوال:(۱۰۰۸) ماں باپ کادرجہ بزرگی میں اعلیٰ ہے یابھی بہن کا؟(۱۶۱۷/۱۳۴۳ھ)
الجواب: سب سے اعلیٰ درجہ ماں با ہی کاہے اور سب کادرجہ علیٰ فرق المراتب ماں باپ سے کم ہی ہے۔ فقط
جوبیٹا ماں کی نافرمانی کرتاہے اور اس کو ایذا دیتاہے وہ جنت میں نہ جائے گا
سوال:(۱۰۰۹) میرافرزند نورعالم مجھ کو ایذا دیتاہے اورنافرمانی کرتاہے، اس کےلئےکیا حکم ہے؟(۳۱۱/۴۶-۱۳۴۷ھ)
الجواب: والدہ کی اطاعت میں ان امور میں جومعصیت نہ ہوں لازم ہے، اور فرزند پر والدین کی تعظیم وادب واجب ہے، جو شخص والدہ کی نافرمانی کرتاہے اور اس کو ایذا دیتا ہے وہ فاسق وعاصی ہے۔
قال اللہ تعالیٰ: فَلَا تَقُلْ لَهُمَا أُفٍّ وَلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُلْ لَهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا (سورۃ بنی اسرائیل، آیت : ۲۳)
اس کو چاہیے کہ توبہ کرے اور والدہ سے قصور معاف کرائے ۔ حدیث شریف میں ہے کہ والدہ کی خدمت اور اطاعت سے جنت ملتی ہے ، اور جو شخص والدین کانافرمان اور عاق ہے وہ جنت میں نہ جائے گا(۱) اللہ تعالیٰ محفوظ رکھے، اور اولاد کوتوفیق اطاعت والدین کی دیوے۔
جنت کہ رضائے مادراں است اندرتہِ پائے مادراں است
(فتاویٰ دارالعلوم دیوبند ،جلد ۱۶)۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔ ان شاء اللہ تعالیٰ



