ماں باپ اور اولاد کے حقوق واحکام-۱۱

ماں باپ اور بڑا بھائی زکاۃ ادا کرنے سے روکیں تو کیا حکم ہے؟
سوال:(۱۰۲۳) لڑکے عاقل بالغ کو فرائض اور واجبات کے ادا کرنے میں والدین کی رضا مندی کا لحاظ رکھنا چاہیے یا نہیں؟ مثلاً مال ہوتے ہوئے والدین کی ناراضی اور غصہ کے خوف سے زکاۃ ادا نہ کرے اور والدین اور بڑا بھائی بہ سبب تنگ دلی اور بخل کے خود بھی زکاۃ نہ دیں، اور لڑکے کو بھی ادا نہ کرنے دیں تو مواخذہ کس پر ہو گا ؟ (۶۱۳/ ۱۳۴۵ھ )
الجواب: حدیث شریف میں ہے: لا طاعة لمخلوق في معصية الخالق (1) یعنی حق تعالى شانہ کے حکم کے خلاف کسی مخلوق کی اطاعت جائز نہیں ہے خواہ والدین ہوں یا بھائی وغیرہ ، پس زکاۃ مفروضہ نکالنا اس پر واجب ہے، اگر چہ والدین ناراض ہوں، اور اگر وہ والدین وغیر ہ کے خوف سے زکاۃ نہ دے گا تو ترک فرض کا گناہ اور مواخذہ اس پر ہوگا اور مانعین پر منع کرنے کا گناہ اور مواخذہ ہوگا ۔ فقط واللہ تعالیٰ اعلم
ماں نے بڑے بیٹے کو مکان سے نکال دیا تو کیا حکم ہے؟
سوال : (۱۰۲۴) دو بیٹے اپنی والدہ حقیقی کے ہمراہ رہتے تھے، اور والد مرحوم نے مکان لڑکوں کی والدہ کے نام کر دیا تھا، والدہ نے بد مزاج ہونے کی وجہ سے بڑے بیٹے کو مکان سے نکال دیا، اور سب اسباب گھر کا والدہ اور چھوٹے بھائی نے دبا لیا ہے، اور اب بڑا بیٹا ایک مسجد میں امامت کر کے اپنا گذر کرتا ہے، ایک مخالف نے ایسا سوال قائم کیا ہے کہ اس سے اس کی امامت نا جائز ہوتی ہے؛ یہ باتیں جائز ہیں یا نہیں؟ (۴۲۷/۳۲-۱۳۳۳ھ)
الجواب: اس صورت میں قصور بڑے بیٹے کا کچھ نہیں ہے، زیادتی اور حق تلفی والدہ اور چھوٹے بھائی کی طرف سے ہے، اور قطع رحمی کا مواخذہ ان پر ہے، جو مکان والد مرحوم کا خرید تھا، اور کسی مصلحت سے والدہ کے نام کر دیا تھا وہ ملک والد کی ہے، اس میں والدہ اور دونوں پسر شریک اور حصہ دار ہیں اور مالک ہیں ، والدہ کو یہ اختیار نہ تھا کہ اس مکان میں سے بڑے بیٹے کو نکالے اور ترکہ والد مرحوم اثاث البیت، پارچه، کتب وغیرہ سے اس کو کچھ حق نہ دے، یہ سخت حق تلفی بڑے بیٹے کی ہے، الحاصل نماز اس بڑے بیٹے کے پیچھے درست ہے، اور امامت اس کی بلا کراہت جائز ہے، وہ نا فرمان والدہ کا نہیں ہے، حدیث شریف میں ہے: لا طاعة لمخلوق في معصية الخالق (۱) اورجس شخص نے فتنہ قائم کرنے کو ایسا سوال قائم کیا جس سے اس مظلوم بڑے بیٹے کی امامت کاعدمِ جواز معلوم ہوتاہے، اور افتر اوبہتان وحق تلفی سے کام لیا، وہ سخت گنہ گار وفاسق ہے۔ فقط
(فتاویٰ دارالعلوم دیوبند ،جلد ۱۶)۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔ ان شاء اللہ تعالیٰ



