مصیبت کے وقت کیا کریں؟

دنیا میں مصیبتیں توآتی ہیں ، اسلام نے مصیبتوں کے آنےپر دوچیزوں سے مدد لینے کاذکرفرمایاہے کہ مصیبت کے وقت تم دوچیزوں کو اختیار کرنا۔ نمبرایک نماز کی پابندی کرنا۔ اور دوسرے یہ کہ تم اپنے نفس کے تقاضوں کے خلاف کام کرتے رہنا۔ اور اسی کانام صبر ہے ، عربی زبان میں صبر کا معنی ہوتاہے کسی چیز کو بند رکھنا مطلب یہ ہوگا کہ اپنے دل ودماغ کواپنی چاہتوں کو بند کردینا، نفس جو چاہتاہے اس کے اوپر کنٹرول کرنا ، سردی کے موسم میں فجر کی نماز کو جاتے ہوئے ٹھنڈی لگتی ہے نفس کہتاہے کہ سوئے رہو، لیکن آپ نے نفس کو قید کردیا، اور آپ مسجد کی طرف آگئے، یہ بھی صبر ہے، صبر کامفہوم وسیع ہے، صرف کسی کی ماردھاڑ پر صبرنہیں ہوتاہے، صرف مصیبت پر ہی صبر نہیں ہوتا بلکہ صبر ہر نیک کام پر جمے رہنے کوکہتے ہیں۔
مصیبت کیسے دورکریں؟
دورکعت کی ایک نماز آدمی کی تقدیر میں تبدیلی پیدا کرسکتی ہے، شرط یہ ہے کہ وہ سجدہ دل سے ہو، اسی کو فرمایا اللہ تعالیٰ نے کہ وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ ایسی نماز پڑھو جو انقلاب پیدا کرے، صاحب جلالین نے ایک روایت نقل فرمائی ہے کہ إِذَا حَزَبَهُ أَمْرٌ بَادَرَ إِلَى الصَّلَاةِکہ جب بھی حضور اکرم ﷺ کو کوئی امر درپیش ہوتاتوآپﷺ نماز کی طرف لپکتے تھے ، اگر سورج گرہن ہوگیا ،چاند گرہن ہوگیا یاکوئی بھی کام پیش آیاتو آپ ﷺ کاسب سے پہلا عمل دورکعت نماز ہوتاتھا، اور صلوٰۃ الحاجت آپ ﷺ پڑھتے تھے، اور جب آپ نے بھی ضرورت کی نماز پڑھی تو ان شاء اللہ ، اللہ تعالیٰ آپ کی ضرورت کو پورافرمائے گا۔
حضرت حکیم الامت ؒ فرماتےہیں آدمی صلوٰۃ الحاجت والی نماز میں پہلی رکعت میں أَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ اور دوسری رکعت میں أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِأَصْحَابِ الْفِيلِ پڑھ لے انشاء اللہ اگردل کا یقین ہے تو اللہ تعالیٰ اسکی بڑی سی بڑی ضرورت بھی پوری فرمادیں گے ، بشرطیکہ جائز ضرورت ہو، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ أَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ کے اندراللہ تعالیٰ نے انسان کو تسلی دی ہے، اللہ تعالیٰ نے دو دو مرتبہ فرمایا کہ فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا ہر مصیبت کے ساتھ راحت لگی ہوئی ہے ہرمصیبت کے بعد آسانی ہے۔
نماز کے ذریعہ دعامانگیں
اس لئے جب کبھی کوئی مسئلہ آئے ہم اپنی نماز کے ذریعہ اللہ سے مانگنے والے بنیں، ماں بہنوں کوبھی اس کی تلقین کریں ، اولاد کوآنکھوں کی ٹھنڈک بناناہے دورکعت نماز پڑھ کے اللہ تعالیٰ سے یہ دعا مانگو: رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًاقرآن پاک نے فرمایا کہ اللہ کے نیک بندے وہ ہوتے ہیں جواپنی اولاد کے لیے یہ دعاکرتے ہیں، اس کنٹری کے مسلمانوں کے لئے اس دعا کایاد ہونا بیحدضروری ہے، جس کاترجمہ یہ ہوتاہے کہ اے اللہ ہماری اولاد کو ہماری آنکھوں کی ٹھنڈک بنا، اللہ تعالیٰ کتنا ارحم الراحمین ہے کہ درخواست کیسے لکھناہے اس کابھی طریقہ اللہ تعالیٰ بتلاتاہے ، کہ تم کیسا بھی لکھو گے تو میں ناراض ہوجاؤں گا کہ ان کو مانگنا بھی نہیں آتاہے۔
صبر کی مشق کروائی جاتی ہے
بہرحال ایک تو نماز ہے اور دوسر اآدمی نفس کے تقاضوں کو مارے، نفس انسان کا بہت بڑا دشمن ہے ۔ رمضان کے مہینہ کے بارے میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا کہ :شَهْرُ الْمُوَاسَاةِ وَشَهْرُ الصَّبْرِ یہ صبر کا مہینہ ہے اس میں ایک مہینہ تک نیٹ پریکٹس کروائی جاتی ہے جیسے کھلاڑی جب میدان میں کھیلنے کے لئے اترتاہے توپہلے نیٹ پرکٹس کرتاہے ، اور اگر اسکو اس میں فٹنگ کا سرٹیفکیٹ دیاجائے تو اب وہ کہیں بھی کھیل سکتاہے، اللہ تعالیٰ نے ایک مہینہ نیٹ پریکٹس کروائی، کہ تم بھوکے رہو پیاسے رہو ، حلال بیوی سے بھی دن میں اپنی ضرورت پوری نہیں کرسکتے، حتیٰ کہ اپنی تھیلی میں خرید کرفروٹ لارہے ہو، لیکن اسکونہیں کھاسکتے اس لئے کہ صبر کا امتحان ہورہاہے۔
[بیانات فلاح دارین، جلد ۴، صفحہ ۶۷، ازحضرت مولانا مفتی محمد فاروق صاحب مدنی مدظلہ]



