مہاراشٹر

گڑھوں سے اموات پر 6 لاکھ، زخمیوں کو 2.5 لاکھ تک معاوضہ

ممبئی :(ایجنسیز) 15 اکتوبر:بامبےہائی کورٹ نے خراب سڑکوں اور گڑھوں سے ہونے والی اموات پر سخت موقف اختیار کرتےہوئے کہا ہے کہ اگر کوئی شہری اس وجہ سے ہلاک ہوتا ہے تو اس کے اہل خانہ کو 6 لاکھ روپے معاوضہ دیا جائے، جبکہ زخمی افراد کو 50 ہزار سے 2.5 لاکھ روپے تک مالی امداد فراہم کی جائے۔یہ فیصلہ جسٹس ریوتی موہتے ڈیرے اور جسٹس سندیش پاٹل کی دو رکنی بنچ نے منگل کو سنایا۔عدالت ایک طویل عرصے سے ممبئی کی خستہ حال سڑکوں پر ازخود نوٹس کی بنیاد پر سماعت کر رہی تھی۔ یہ معاملہ 2013 میں جسٹس جی ایس پٹیل کے ایک مکتوب سے شروع ہوا تھا،جس میں انہوں نے شہر کی سڑکوں کی بدترین حالت اور شہریوں کی مشکلات کی نشاندہی کی تھی۔بنچ نےکہا کہ ’’2015 سے اب تک عدالت کے بار بار احکامات کے باوجود ہر سال مانسون کےدوران وہی مسائل دوبارہ پیدا ہو جاتے ہیں، جو سرکاری غفلت اور غیر ذمہ داری کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔‘‘عدالت نے واضح کیا کہ شہریوں کو بہتر سڑکیں فراہم کرنا حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے، اوران کی ناکامی آئین کے آرٹیکل 21 (زندگی کے حق) کی خلاف ورزی ہے۔ بنچ نے کہا کہ محفوظ اور گڑھوں سے پاک سڑکیں شہریوں کا بنیادی حق ہیں، جسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔عدالت نے یہ بھی کہا کہ معاوضے کی رقم تمام مقامی اداروں اور منصوبہ ساز مجاز افسران ، جیسےایم ایچ اے ڈی اے، ایم آر ڈی سی، سڈکو ادا کرنی ہوگی، تاکہ متاثرہ خاندانوں کو فوری ریلیف مل سکے۔بنچ نےمزید ہدایت دی کہ ادا شدہ رقم بعد میں ذمہ دار ٹھیکیدار یا متعلقہ افسر سے وصول کی جائے، کیونکہ عوامی فنڈ کا ضیاع کسی طور پر برداشت نہیں کیا جائے گا۔ عدالت نے کہاکہ ’’معاوضے سے انکار کرنا شہریوں کے حقِ زندگی کی توہین ہے‘‘۔عدالت نے اس بات پر بھی افسوس ظاہر کیا کہ ممبئی، تھانے اور بھیونڈی میں اس سال گڑھوں کی وجہ سے متعدد شہری ہلاک ہوئے، لیکن تمام ادارے روایتی انداز میں ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈالنے میں مصروف رہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button