مضامین

ماں باپ اور اولاد کے حقوق واحکام-۱۷

کیا بہو پر ساس کی اطاعت اور خدمت فرض ہے؟
سوال:(۱۰۴۱) …(الف) اگر ساس یہ ضد کرے کہ بہو اسی کے پاس رہے ، اور بہو خاوند کے پاس رہے تو کیا کرنا چاہیے؟
(ب) کیا بہو پرساس کی خدمت فرض ہے؟
(ج) چوں کہ بیٹے پر والدین کی اطاعت فرض ہے اور بیوی پر خاوند کی، تو کیا بہو پر ساس کی اطاعت فرض نہ ہوگی؟
(د) اگرساس بہو میں رنجش ہو اور والدین نہ توطلاق کوپسند کرین نہ یہ کہ بیوی خاوند کے پاس رہے تو کیا خاوند بیوی سے ترک کلا م کردے؟(۲۱۳۸/۱۳۳۸ھ)
الجواب:(الف) عورت کو اس کے شوہر کے پاس ہی رکھنا چاہیے۔
(ب)مقدم شوہر کی خدمت ہے، ساس کے ساتھ بھی معاملہ ایسا رکھے جیسا کہ چھوٹوں کو بڑوں کے ساتھ رکھنا چاہیے ،مگریہ نہیں کہ جو کچھ ساس کہے وہ اس کو ماننا ضروری ہو اگرچہ اس میں عورت کی حق تلفی ہو، ایسی اطاعت لازم نہیںہے۔
(ج) خدمت کرے، لیکن اپنے حقوق کامطالبہ کرسکتی ہے اور شوہر کے پاس رہنے کو وہ کہہ سکتی ہے اس میں وہ حق پر ہے، اور اس میں اس پر ساس کی اطاعت لازم نہیں ہے۔ فقط
(د) زوجہ کے ساتھ حسن سلوک سے رہے اور اپنے پاس رکھے اور ترک کلام نہ کرے اور والدین کوبہ نرمی سمجھادیوے کہ اس کاحق ادا کرنا ضرویر ہے۔
شوہر بیوی کوساس کی خدمت کیلئے مجبور نہیں کرسکتا
سوال:(۱۰۴۲) کیا خاوند بیوی کوساس کی خدمت کیلئے مجبور کرسکتا ہے؟(۲۱۳۸/۱۳۳۸ھ)
الجواب: مجبور نہیں کرسکتا۔ فقط واللہ تعالیٰ اعلم
(فتاویٰ دارالعلوم دیوبند ،جلد ۱۶)۔۔۔۔۔جاری ہے ان شاء اللہ تعالیٰ

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button