مضامین

احکامات حج-(فضائل ومسائل)-19

حالت احرام میںناخن کاٹنا
ایک ہاتھ یا ایک پیر یا ہاتھ پاؤں چاروں اعضاء کے ناخن ایک وقت میں ایک جگہ کاٹ لئے ہیں تو سب کے عوض میں ایک ہی دم واجب ہوگا ، اور اگر چاروں اعضاء کے ناخن چار وقت میں چار جگہ کاٹے ہیں تو چاردم لازم ہوں گے۔ اسی طرح اگرایک وقت میں ایک عضو کے کاٹ لئے ہیں اور دوسرے عضو کے دوسرے وقت میں کاٹ لئے ہیں تو دو(۲) دم لازم ہوں گے۔ اور کسی بھی عضو کے سب ناخن نہیں کاٹے بلکہ ہر ایک عضو سے پانچ ناخن سے کم کم کاٹے ہیں، چاہے چار چارکرکے سولہ (۱۶) ناخن کاٹ لئے ہیں،تودم لازم نہ ہوگا۔ بلکہ ہر ایک ناخن کے عوض میں ایک صدقہ فطر لازم ہوگا۔
(مستفاد بدائع الصنائع ج۲۔ص۲۹۴، تاتارخانیہ ج۲۔ص۵۰۳، ہندیہ ج۱،ص۲۴۴)
حالت احرام میںسِلا ہواکپڑا پہننا
حالت احرام میں مرد کیلئے ایسا سِلاہوا کپڑا پہننا ممنوع اور ناجائز ہے جو بدن کی ہیئت اور جسم کی بناوٹ کے مطابق سلا گیاہو یا بنالیاگیاہو جیسے کُرتا، قمیص، پائجامہ، بنیان، ٹوپی، نیکر، اچکن ، جرسی ،صدری وغیرہ ہیں۔ اور جو کپڑا بدن کی ہیئت اور بناوٹ پر نہیں سلاگیاہے تو اسکا پہننا بلا کراہت جائز ہے۔ لہٰذا سلی ہوئی لُنگی پہننا بلاکراہت جائز اور درست ہے۔(مستفاد معلم الحجاج ۲۳۳)
حالت احرام میںسِلے ہوئے کپڑے پہننے کا جُرمانہ
اگر ایک دن یا ایک رات کامل یا ایک دن کی مقدار یعنی بارہ گھنٹہ مرد نے سلا ہوا کپڑا پہن لیاہے یا کئی روز مسلسل پہن لیاہے تو دونوں صورتوں میں ایک دم لازم ہوگا۔ اور رات کو اس نیت سے اتارتاہے کہ کل کو پھر پہننا ہے تب بھی سب دنوںکے عوض میں ایک دم لازم ہوگا اور اگر اس نیت سے اُتارتاہے کہ اب نہیں پہنونگا مگر دوسرے دن پھر پہن لیا تو دو دم لازم ہوں گے۔(مستفاد معلم الحجاج ۲۳۳)
اور اگر ایک رات یا ایک دن سے کم اور ایک گھنٹہ سے زیادہ پہناہے تو ایک صدقۂ فطر لازم ہوگا۔ اور اگر ایک گھنٹہ سے کم پہنا ہے تو ایک دومٹھی گیہوں یا اس کی قیمت صدقہ کرنا کافی ہے۔(مستفاد غنیہ لمناسک ۱۳۴، معلم الحجاج ۲۳۳)
سِلے ہوئے کپڑے کو بدن پرڈال لینا
حالت احرام میں قمیص، کُرتا وغیرہ پہننا جائز نہیں۔ لیکن اگر پہنا نہیں بلکہ قمیص، کُرتا وغیرہ کو بدن پر چادر کی طرح ڈال لیاہے تو کوئی مضائقہ نہیں اس لئے کہ سلے ہوئے طریقہ سے پہننا ثابت نہیں ہوا، اور ممنوع اور موجب جنایت
۔ ۔۔۔۔۔ (ماخوذ از کتاب انوارمناسک)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(جاری ہے ان شاء اللہ تعالیٰ)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button