مضامین

ماں باپ اور اولاد کے حقوق واحکام-۹

شادی کے بعد بھی ماں باپ کے حقوق باقی رہتے ہیں
سوال: (۱۰۱۴) دختر کی شادی کے بعد والدین کا کچھ حق اس پر ہے یا نہیں ؟ (۱۳۳۹/۱۹۰۹ھ)
الجواب : اولاد کے ذمے والدین کے حقوق جو قبل از شادی کے تھے بعد شادی کے بھی باقی ہیں مثلاً اطاعت والدین اولاد کے ذمے ضروری ہے اور نافرمانی اور بدسلوکی والدین کے ساتھ کرنا حرام ہے بر والدین ( ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرنا ) فرض اسلامی ہے، اسی طرح عقوق والدین (ماں باپ کی نافرمانی ) پر سخت وعید میں وارد ہوئی ہیں (۲) فقط واللہ تعالیٰ اعلم
شادی کے بعد عورت ماں باپ کی اطاعت کرے یا شوہر کی؟
سوال : (۱۰۱۵) بیٹی پر شادی کے بعد والدین کا حکم ماننا فرض ہے یا وہ خاوند کے زیر حکم ہے؟(۲۵۳۴/۱۳۴۱ھ)
الجواب : اطاعت خاوند کی بھی واجب ہے اور والدین کی بھی، دونوں کو راضی رکھے (1) فقط
خلاف شرع امور میں کسی کی اطاعت جائز نہیں
سوال: (۱۰۱۶) جو امور خلاف شریعت ہیں، اگر ان کے لیے ماں باپ مرشد وغیرہ مجبور کریں تو انحراف جائز ہے یا نہیں ؟ (۳۵۵/ ۱۳۳۹ھ)
الجواب: امور خلاف شریعت میں کسی کی اطاعت جائز نہیں ہے۔ جیسا کہ وارد ہے:لا طاعةَ لمخلوقٍ في معصيةِ الخالق (۲) استاد ہو یا پیر، والدین ہوں یا کوئی اور امر خلاف شریعت میں کسی کی اطاعت نہ کرے۔ فقط
باپ زانی ہو پھر بھی جائز امور میں اس کی اطاعت کرنا ضروری ہے
سوال : (۱۰۱۷) زید کا باپ حافظ قرآن ہے، مگر زانی بھی ہے، ایسے باپ کی اطاعت کرنی چاہیے یا نہیں؟ (۱۹۱۹/ ۱۳۳۷ھ)
الجواب: حدیث شریف میں ہے: لا طاعةَ لمخلوقٍ في معصيةِ الخالق (۲) یعنی معصيت میں کسی کی اطاعت نہیں ہے، پس سوائے معاصی کے اور امور میں والدین کی اطاعت فرض ہے۔ فقط
فاسق باپ کے ساتھ اولاد کو کیا معاملہ کرنا چاہیے؟
سوال : (۱۰۱۸) ایک شخص کی زوجہ مرگئی، اس نے دوسرا نکاح کر لیا، اور اس زوجہ کے کہنے سے اثاث البیت وغیرہ میں سے اولاد کو کچھ نہیں دیا، اور نیز یہ شخص طوائف کے یہاں جا کر ان کی حرام کمائی کا کھانا کھاتا ہے، اور اجرت ماہواری پر ان کو کتب لہو ولعب پڑھاتا ہے، اس کی اولاد تعلیم یافتہ اس کو منع کرتی ہے مگر باز نہیں آتا ، اور اگر اس کی اولاد میں سے کوئی یہ ارادہ حج بیت اللہ جانا چاہے تو کہتا ہے کہ بلا میری اجازت حج قبول نہ ہوگا؟ یہ صیح ہے یا نہیں؟ اور ایسے باپ کے ساتھ اولاد کو کیا معاملہ کرنا چاہیے؟ (۱۹۰۴/۳۲-۱۳۳۳ھ)
الجواب : یہ افعال باپ کے برے ہیں، اولاد کو اس کے افعال میں شریک ہونا نہ چاہیے لیکن حتی الوسع اس کی فرمانبرداری دیگر امور میں کرتے رہیں، اور معاملہ بھلائی کا اور سلوک ان کے ساتھ کرتے رہیں ۔ قَالَ اللهُ تَعَالَى: ﴿ وَإِنْ جَاهَدَاكَ عَلَىٰ أَنْ تُشْرِكَ بِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا وَصَاحِبْهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوفًا ) ( سورة لقمان، آیت: ۱۵) والدین کے باوجود مشرک ہونے کے بھی ان کے ساتھ حسن سلوک کا معاملہ دنیا میں کرنے کا حکم فرمایا گیا ہے۔ باقی حج اگر فرض ہے تو جانا ہی چاہیے اگر چہ باپ نا خوش ہو، اور اگر نفل ہے تو اس کی اجازت سے جاوے۔ کذا في الشامي (1) فقط واللہ تعالیٰ اعلم .
(فتاویٰ دارالعلوم دیوبند ،جلد ۱۶)۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔ ان شاء اللہ تعالیٰ

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button